May 20, 2022

“اگر آپ دوران شادی اسکی ٹانگیں نیچے نہ آنے دیتے تو آج یہ جانے سے انکار نہ کرتی”

“اگر آپ دوران شادی اسکی ٹانگیں نیچے نہ آنے دیتے تو آج یہ جانے سے انکار نہ کرتی”

منڈی بہاوالدین کے ایڈیشنل سیشن جج وارث علی صاحب نے تو کمال کردیا خلع کے ایک کیس کی اپیل میں پہلے تو عائشہ نامی خاتون کو ریسپانڈنٹ خاوند کے ساتھ اہلمد کے کمرہ میں برائے مصالحتی اکیلا بند کردیا ایک گھنٹہ الگ رہنے کے باوجود جب ناراض میاں بیوی کی صُلح نہ ہوسکی تو جج صاحب نے خاوند ذیشان مختیار کو حُکم دیا کہ اپنی بیوی عائشہ اور بچے کو بازار شاپنگ کرانے لے جائے عائشہ کے شور مچانے کے باوجود کہ وہ نہیں جانا چاہتی جج صاحب نے اُسے زبردستی بازار بھجوا دیا واپسی پر عائشہ نے جج صاحب کو بتایا کہ ذیشان نے اُسے کوئی شاپنگ نہیں کروائی بلکہ دھمکیاں دیتا رہا اب جج صاحب نے پھر عائشہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے خاوند کی ساتھ چلی جائے انکار پر جج صاحب نے اظہار ِ ناراضگی فرماتے ہوئے تاریخی جملہ فرمایا جو کسی بھی عدالت کے شایانِ شان نہیں ہو سکتا جج صاحب نے فرمایا “اگر آپ دوران شادی خانہ آبادی اسکی ٹانگیں نیچے نہ آنے دیتے تو آج یہ جانے سے انکار نہ کرتی” جج صاحب کے ان الفاظ سے جو بھری عدالت میں کہے گئے ہمارے معاشرتی نظام کا وہ مکروہ چہرہ سامنے آتا ہے جو عورت کو اپنے پاوں کی جوتی سمجھتا ہے عائشہ نے چیف جسٹس پنجاب ہائیکورٹ کو ایڈیشنل سیشن جج منڈی بہاوالدین کے خلاف ایک درخواست بھی دی ہے دیکھیں اُسکا کیا ہوتا ہے
بہاولپور کے ایک جج صاحب شراب پینے اور زنا کرنے کو جرم ہی نہیں سمجھتے تھے اور نہ ہی اس جرم کے ملزمان کو سزا دیتے تھے اس بات کا وہ عدالت میں سب کے سامنے برملا اظہار بھی کرتے تھے کیونکہ وہ خود شراب پینے اور زنا کرنے کے عادی تھے
ہماری عدالتیں کیسے انصاف کریں کیونکہ ہم سب اسی معاشرے کے رہنے والے ہیں جج صاحبان پولیس افسران بیروکریٹس جنرل صاحبان جرنلسٹ اور سیاستدان سب ہمارے اسی معاشرے اور کرپٹ نظام کا حصہ ہیں جو اُس جرم کو جرم ہی نہیں سمجھتے جو وہ خود کرتے ہیں ہر کسی کی ایک قیمت ہے جس میں وہ بک جاتا ہے کوئی دولت سے کوئی سفارش سے اور کوئی مجبوری میں
انصاف کرنے میں ہمارے ملک کی عدلتیں دنیا میں ایک سو تیس نمبر پر آ گئ ہیں اور اس نمبر پر آنے کے لیے سالوں کی محنت درکار ہے جناب ایک دن میں یہ معجزے نہیں ہوتے۔

بشکریہ: Aziz Ullah Khan

Follow by Email
Facebook15k
Twitter11k
%d bloggers like this: