August 19, 2022

مجنونِ عشق



جھنگ جانا ہوا تو سوچا مائی ہیر کے دربار پہ بھی جانا چاہیے۔۔۔زیادہ دور نہیں تھا پیدل ہی چل پڑا۔۔۔۔پانچ منٹ بعد میں دربار پہ موجود تھا۔۔۔۔بائیں طرف قبرستان ہے۔۔۔ اور دائیں طرف لوگوں نے اپنی اپنی مختلف چیزوں کی دوکانداری سجا رکھی ہے۔جن میں چوڑیاں لاکٹ اور مٹی کے برتن وغیرہ بھی شامل ہیں۔۔۔زیادہ رش نہیں تھا۔۔چند ہی لوگ تھے۔۔۔دعا مانگ کر باہر نکلا اور واپس چل پڑا۔۔۔۔۔چلتے چلتے یونہی اک نظر قبرستان کے قریب بیٹھے لوگوں پر ڈالی تو مجھے رک جانا پڑا۔۔۔۔۔میلے کچیلے کپڑوں میں وہ سب سے الگ تھلگ بیٹھا تنکے سے زمین پر کچھ لکھ لکھ کر مٹارہا تھا۔۔۔۔تجسس نے قدم اس کی طرف موڑدیے۔۔۔میں اس کے قریب گیا تو میری پہلی نظر ہی زمین پر لکھے اس کے چند لفظوں پر پڑی۔۔۔۔وہ بڑی محويت سے ان الفاظ کو تکے جارہا تھا۔۔۔۔ خوبصورت اور واضع الفاظ میں زمین پر ایک نام لکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔شبَّو۔۔۔ میں اسے سلام کیا جس کا کوئی جواب نہ آیا۔۔۔میں نے پھر سلام کیا تو اس نے ایک اداۓ بےنیازی سے میری طرف دیکھا اور اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔۔۔۔میں اس کے قریب بیٹھ گیا۔۔۔میرے اندازے کے مطابق اس کی عمر پچاس پچپن سال کے قریب ہوگی۔۔۔بابا۔۔۔میں نے بیٹھتے ہی اسے مخاطب کیا۔۔۔۔۔ جا چلا جا ادھر سے۔۔۔۔اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔۔۔آجاتے ہیں دل جلانے۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔میں نے ایک بار پھر پیار سے
مخاطب کیا۔۔۔کھانا کھایا ہے آپ نے؟؟؟ کھانا؟؟؟ ان کا لہجہ سوالیہ تھا۔۔۔ہمیں کون پوچھے گا کھانے کو؟؟؟ماں کے بعد کون پوچھتا ہے کہ ۔۔کھانا کھایا کہ نہیں ۔۔۔ان کو آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔شاید ماں کی یاد آگئی تھی۔۔؟؟؟اور گزرا ہوا وقت۔۔۔۔۔۔چلو کھانا کھاتے ہیں ۔۔میں نے کہا تو چپ چاپ میرے ساتھ چل دیے۔۔۔۔کھانا کے بعد جب چاۓ پی چکے تو میں نے ان کو سگریٹ پیش کی۔۔۔جو انہوں نے خاموشی سے لیکر سلگالی۔۔۔۔تجھے کچھ پوچھنا ہے مجھ سے؟؟؟انہوں نے سگریٹ کا ایک گہرا کش لیکر مجھ سے پوچھا۔۔۔۔ہاں بابا۔۔۔میں نے کہا۔۔میں آپ کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔۔۔مجھے بتائیں آپ کون اور کہاں سے ہیں؟؟؟ یہاں کیوں بیٹھے رہتے ہیں؟؟؟اور شبَّو کون ہے؟؟؟ شبو کے نام پر انہوں نے چونک کر میری طرف دیکھا۔۔۔اور کچھ دیر یونہی دیکھتے رہے۔۔۔شاید سوچ رہے تھے کہ۔۔۔شبو کے بارے میں اس کو بتاؤں کا نہ بتاؤں؟؟؟ پھر کسی فیصلے پر پہنچنے کے بعد مجھ سے مخاطب ہوۓ۔۔۔اچھا سن۔۔۔تجھے بتادیتا ہوں سب۔۔۔شاید دل کا بوجھ ہلکا ہوجاۓ۔۔۔دنیا میں کسی کو تو میرے دکھ کا پتا ہو۔۔۔۔ان کی آنکھوں میں نمی واضع تھی۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا نام چوہدری اکبر ہے۔۔۔چوہدری اکبر۔۔۔۔ ہاہاہاہاہا۔۔۔انہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور لفظ چوہدری پہ خاص زور دیا۔۔۔۔بھلا چوہدری ایسے ہوتے ہیں؟؟؟وہ خود ہی اپنی تحقیر کرنے کرنے لگے۔۔۔۔فقیر ہوں میں تو فقیر۔۔۔۔ہم سب فقیر ہیں۔۔۔۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔کسی نہ کسی کے فقیر۔۔۔۔کوئی دولت کا کوئی عزت کا کوئی شہرت کا اور اور ۔۔۔۔۔۔۔وہ ایک لمحے کو رکے کوئی محبت کا۔۔۔۔۔میں بھی محبت کا فقیر ہوں۔۔۔۔ میرا نام اکبر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اس کا نام ثوبیہ تھا مگر گھر والے پیار سے اسے شبَّو کے نام سے پکارتے تھے۔۔۔۔صوبہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے۔۔۔گاؤں میں سکول ہی پانچ تک تھا۔۔۔سو شبو نے بھی بس پانچ تک ہی پڑا تھا۔۔۔اس سے آگے اس کے باپ کی استطاعت ہی نہیں تھی کہ وہ شبو کو شہر والے سکول بھیج سکتا۔۔۔۔اس کے باپ کا نام نتھو کمہار تھا۔۔۔جو اپنے باپ داد کی طرح مٹی کے برتن بناتا اور بیچتا تھا۔۔۔۔اس کی ایک ہی بیٹی تھی شبو۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ روز صبح موٹر سائیکل پہ شہر پڑھنے جاتا تھا۔۔۔۔گاؤں کے چند کھاتے پیتے گھرانوں میں اس کا گھر بھی شامل تھا۔۔۔روپے پیسے کی کمی نہیں تھی۔۔۔تین بھائی تھے یہ سب سے چھوٹا اور لاڈلا تھا۔۔بڑے بھائیوں کو تعلیم کا کچھ خاص شوق نہیں تھا۔۔۔انہوں نے تھوڑا بہت پڑا اور اپنی زمین کے کام سنبھال لیے۔۔۔بس اسے ہی شوق تھا کہ وہ پڑھے۔۔۔اسے اجازت تھی کہ جتنا پڑھنا ہے پڑھو۔۔۔۔گاڑی ان کے گھر تھی مگر وہ موٹرسائیکل پہ یونیورسٹی جاتا تھا۔۔۔۔اسے اپنے والد اور دوسرے بھائیوں کی طرح اپنی دولت کی بےجا نمائش کا شوق نہیں تھا۔۔۔اس کا باپ اور بھائی اپنے نام کے ساتھ چوہدری لگاتے تھے مگر۔۔۔یہ صرف اپنا نام اکبر بتاتا تھا۔۔۔لفظ چوہدری سے
اسے چڑتھی۔۔۔ ایک شام وہ اپنے گھر کی بیٹھک میں اپنے والد اور بھائیوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔اس کے والد اور بھائی زمین کی آمدن کا حساب کتاب کررہے تھے۔۔۔اور وہ بیٹھا بور ہورہا تھا۔۔۔۔باہر گھوم کر آتا ہوں اس نے سوچا۔۔اور اٹھ کر باہر نکل گیا۔۔۔وہ ابھی چند قدم ہی چلا ہوگا کہ ۔۔دوسری طرف سے نتھو کمہار آتا دکھائی دیا۔۔۔وہ کچھ پریشان سا لگ رہا تھا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ نتھو اس تک پہنچتا۔۔۔اس نے آگے بڑھ کر خود پوچھ لیا۔۔۔چاچا۔۔کیا بات ہے؟؟پریشان لگ رہے ہو؟؟ ہاں پتر۔۔۔نتھو بولا۔۔۔میری گھر والی بہت بیمار ہے۔۔۔پنڈ کے ڈاکٹر نے کہااسے جلدی شہر لے جاؤ مگر۔۔۔۔میرے پاس کچھ نہیں جس پہ اسے لےجاؤں۔۔۔تیرے ابا کی منت کرنے آیا تھا کہ اپنی گاڑی پہ شہر کے سرکاری ہسپتال تک چھوڑ آۓ ۔۔۔بڑی مہربانی ہوگی ان کی۔۔۔۔چاچا تو چل گھر چاچی کو تیار کر میں گاڑی لے کے آتا ہوں ۔۔۔اکبر نے اسے وہیں سے واپس موڑدیا۔۔۔اور واپس آکر اپنے ابا کو ساری بات بتائی۔۔۔ہم نے کوئی خیراتی ادارہ بنا رکھا ہے کہ۔۔۔جس کا دل کرے منہ اٹھاکر چلا آۓ۔۔۔اس کے باپ نے زراغصے سے جواب دیا تھا۔۔۔۔اور نہیں تو کیا۔۔۔گاڑی ہم نے لوگوں کو ہسپتال لےجانے کے لیے نہیں لی۔۔۔اس کے بڑے بھائی نے بھی اپنے والد کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔اس نے بہت دلیلیں دیں کہ۔۔۔یہ ایک نیک کام ہے ۔۔۔بھلا کرنا چاہیے انسانوں کو مگر۔۔۔۔۔ان پہ کوئی اثر نہ ہوا۔۔۔۔الٹا جواب ملا کہ ۔۔پڑھائی نے تیری عقل خراب کردی ہے۔۔۔۔مایوس ہوکر اس نے بائیک اٹھائی اور ۔۔ساتھ والے گاؤں میں اپنے دوست سے گاڑی مانگ لایا۔۔۔۔گاڑی لیکر وہ نتھو کمہار کے گھر پہنچا۔۔۔گاڑی میں نتھو کے ساتھ اس کی بیٹی بھی بیٹھی تھی۔۔۔۔مگر اس نے خود کو ایک بڑی چادر میں چھپارکھا تھا۔۔۔۔وہ ان کو لیکر ہسپتال گیا۔۔۔۔پانچ چھ گھنٹے بعد ان کو واپس جانے کی اجازت ملی۔۔۔۔وہ ان کو لیکر کر واپس گاؤں آگیا۔۔۔۔دوائیوں کے پیسے بھی اس نے اپنی جیب سے دیے تھے۔۔۔۔ان کے گھر اتار کر اس نے اجازت چاہی تو نتھو بڑے ہی عجاجزانہ سے لہجے میں بولا۔۔۔۔پتر۔۔۔۔ہماری اوقات تو نہیں ہے پر ۔۔۔۔اگر چاۓ پی لو تو ہمیں بہت خوشی ہوگی۔۔۔۔نہیں چاچا۔۔ایسی کوئی بات نہیں ۔۔اس نے کہا اور اس خیال سے کہ چاچا نتھو احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔۔۔وہ گاڑی لاک کرکے ان کے گھر چلا گیا۔۔۔۔شبو پتر۔۔۔پتر اکبر کے لیے چاۓ بنا کر لا جلدی سے۔۔۔نتھو کی خوشی دیدنی تھی۔۔۔شبو جیسے ہی چاۓ لیکر آئی۔۔۔اکبر کی نظر اس پہ پڑی۔۔۔اب تک اس نے خود کو بڑی سی چادر میں چھپاۓ رکھا تھا ۔۔۔مگر گھر اس نے صرف دوپٹہ لےلیا تھا۔۔۔۔۔اکبر کو لگا تھا کہ۔۔۔۔۔۔اس نے آج تک جتنے بھی حسین دیکھے تھے ۔۔وہ مصنوعی تھے۔۔۔حقیقی حسن اس نے آج پہلی بار۔۔۔نتھو کمہار کے گھر میں دیکھا تھا۔۔۔خالص سادہ اور معصوم حسن کا پیکر تھی وہ۔۔۔۔کسی پہ دل ہارنے کے بھی کچھ مخصوص لمحے ہوتے ہیں شاید۔۔۔۔۔؟؟اور وہ وہی لمحہ تھا۔۔۔جس میں اکبر اس پہ دل ہارگیا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ چھ ماہ بےچین پھرتا رہا تھا۔۔۔پھر اس نے اپنی تایازاد بہن کے ہاتھوں اس تک پیغام پہنچایا تھا کہ۔۔۔۔۔میرا جینا مرنا اب تیرے ہاتھ ہے۔۔۔میں تجھ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔اگر میں تجھے ناپسند نہیں تو ۔۔میرا ساتھ دو۔۔۔ موبائل کا دور نہیں تھا ورنہ شاید اسے اتنی مشکل نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔محبت قبول کرلی گئی تھی اکبر کی۔۔۔۔شبو نے اس سے کہا تھا کہ وہ صرف اسی کی ہے بس۔۔۔۔اگر اس میں ہمت ہے تو وہ اسے بیاہ کر لےجاۓ ۔۔وہ اس کا انتظار کریگی۔۔۔۔کچھ عرصہ یونہی پیغام رسانی کے زریعے ایک دوسرے سے دل کے حالات بیان کیے جاتے رہے ۔۔۔اور پھر ایک دن ملاقات کا مقرر ہوگیا۔۔۔شبو کی سہیلی کے گھر ان کی پہلی ملاقات ہوئی۔۔پھر دوچار ہوئیں ۔۔۔وعدے ہوۓ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک صبح گاؤں میں خبر پھیل گئی کہ شبو کسی کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ہے۔۔۔اکبر کے لیے یہ بات ناقابل یقین تھی کہ۔۔۔شبو کسی کے ساتھ بھاگ گئی۔۔۔کس کے ساتھ؟؟؟اس نے سوچا ۔۔۔جینے مرنے کے وعدے تو اس نے میرے ساتھ کیے تھے۔۔۔پھر وہ کس کے ساتھ بھاگ گئی؟؟؟کسی اور کے ساتھ بھی وہ۔۔۔؟؟؟؟نہیں۔۔۔اس کے دل نے نفی کی ۔۔وہ اتنی بھولی بھالی سی اتنی چکرباز نہیں ہوسکتی۔۔مجھ سے وہ دھوکا نہیں کرسکتی۔۔۔۔۔مگر گئی کہاں؟؟؟اور کیوں؟؟؟سوچ سوچ کر اکبر کا دماغ پھٹاجارہا تھا۔۔۔۔۔۔۔گاؤں میں یہ بات چل رہی تھی کہ۔۔وہ اپنی رشتہ دار عورت کے ساتھ دوسرے شہر رشتہ داروں کے گھر جارہی تھی کہ۔۔۔اس شہر کے بس اڈے پہ وہ عورت اسے ایک جگہ بٹھاکر گاڑی کا پتہ کرنے گئی تھی۔۔۔۔۔واپس آئی تو شبو وہاں نہیں تھی۔۔۔اس عورت کا کہنا تھا کہ شبو نے کسی کو ٹائم دے رکھا ہوگا۔۔۔اور وہ وہاں سے اس کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شبو کو تیار کیا جارہا تھا۔۔کوئی خاص مہمان آنے والے تھے شاید؟؟؟ چھ مہینوں میں ایساکئی بار ہوچکا تھا۔۔۔اسے کھانے پینے کو دیا جاتا۔۔۔اور کسی نے بھی اسے چھوا تک نہیں تھا بس۔۔۔۔کچھ دن بعد کچھ مہمان آتے تھے اور شبو کو تیار کر کے ان کے سامنے بٹھا دیا جاتا تھا۔۔۔۔اسے کچھ بھی بولنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔۔اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔۔۔۔پھر ایک دن اس کی کوئی نیکی اس کے کام آگئی۔۔۔اس گھر کے بوڑھے چوکیدار نے اسے خاموشی سے نکال کر اڈے تک پہنچادیا۔۔۔اور صبح ہوتے ہی شبو اپنے گھر پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ گاؤں میں ایک بار پھر شورمچا کہ۔۔۔شبو واپس آگئی ہے۔۔۔۔شبو نے جو بتایا اس لب لباب یہ تھا کہ۔۔۔اس کی رشتہ دار عورت اس کو رشتہ داروں سے ملنے کے بہانے لے گئی اور۔۔اس نے شبو کو کسی کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔۔۔جہاں وہ چھ مہینے رہی اور آج چوکیدار کو اس پہ رحم آگیا تو اس نے اسے وہاں سے نکال دیا۔۔۔یہ بات سچ بھی تھی مگر۔۔۔۔۔۔کسی نے اس کی بات پہ یقین نہ کیا۔۔۔۔۔اس کی رشتہ دار عورت نے قسم کھاکر یقین دلایا کہ شبو جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔۔۔ خلقت تو کہنے کو فسانے مانگے۔۔۔۔۔۔ لوگوں کو تو ایک موضوع ہاتھ آگیا تھا۔۔۔سوسب نے شبو کو بدنام کرنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالا۔۔۔۔کئی ایک نےتو اسے طوائف کا لقب بھی دے دیا تھا۔۔۔گاؤں میں بس تین لوگ تھے جن کو شبو کا یقین تھا۔۔۔اس کے ماں باپ اور اکبر۔۔۔۔۔ ۔میں شبو سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔اکبر کی بات نے گھر میں گویا دھماکہ کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ شبو سے ملا تھا اور شبو نے اس سے کہا تھا کہ ۔۔۔اکبر۔۔۔تو بھی مجھے؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔اکبر نے اس کی بات کاٹی تھی۔۔۔۔مجھے یقین ہے تو پاک دامن ہے شبو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس آوارہ سے شادی کریگا تو؟؟؟اس کے بھائی اور بھابھیوں نے نفرت اور حقارت سے کہا تھا۔۔۔۔اس کے والد نے تو صاف کہا تھا۔۔۔۔تو اگر چھ مہینے پہلے بھی کہتا تو بھی یہ ناممکن تھا۔۔۔اور اب تو وہ چھ مہینے باہر گزار کر آئی ہے۔۔۔۔پتہ نہیں کس کس کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے باپ نے معنی خیز لہجے میں بات ادھوری چھوڑدی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اکبر کا دل تڑپ اٹھا تھا مگر۔۔۔وہ اپنے باپ سے بدتمیزی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔۔۔وہ کہاں ؟؟؟ہم کہاں؟؟؟بھلا نالی کی اینٹ بھی کبھی چوبارے میں لگ سکتی ہے۔۔۔۔۔اس کے باپ کے لہجے میں واضع نفرت اور حقارت تھی۔۔۔۔۔۔۔ابا خدا کے لیے۔۔۔۔۔۔اکبر نے تڑپ کر کہا۔۔۔ایسی باتیں نہ کریں۔۔۔وہ بھی انسان ہی ہیں۔۔۔مجھے اگر یہ پتہ ہوتا کہ پڑھائی تیرا دماغ خراب کردیگی۔۔۔تجھے اونچے
نیچے کی پہچان ہی نہیں رہےگی تو میں تجھے کبھی پڑھنے نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔اس کے باپ نے اپنی چوہدراہٹ جتائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اکبر کو حکم ملا تھا کہ ۔۔۔اگر شبو سے شادی پہ قائم ہو تو گھر چھوڑکر جاسکتے ہو۔۔اور اس نے اپنی محبت کی بجاۓ گھر چھوڑنے کو ترجیح دی تھی۔۔۔۔۔ وہ وہاں سے سیدھا دوسرے شہر اپنے ماموں کے گھر چلا گیا۔۔۔کچھ دن بعد وہ واپس آیا اور شبو کے باپ کے پاس گیا ۔۔۔شاید شبو کا باپ راضی ہوبھی جاتا مگر اسے اکبر کے باپ کا پیغام مل گیا تھا کہ ۔۔۔۔نالی کی اینٹ چوبارے میں لگانے کی کوشش مت کرنا ورنہ۔۔۔۔انجام برا ہوگا۔۔۔۔ شبو کی شادی کردی گئی تھی۔۔۔اس کا شوہر نہ صرف عمر میں اس سے بڑا تھا بلکہ پہلے سے شادی شدہ تھا بیوی کو طلاق دے رکھی تھی۔۔۔۔اکبر کے لیے دنیا میں کچھ نہیں بچا تھا۔۔۔وہ شہر شہر آوارہ گردی کرتا رہا۔۔۔نہ اسے کھانے کی فکر تھی نہ رہنے کی۔۔۔۔۔زندگی دربدر لیے پھرتی رہی اسے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ دن سے وہ یہاں ہیر کے دربار پہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔چوہدری اکبر نام ہے میرا۔۔۔۔۔۔اس نے بات ختم کی اور نظریں اٹھاکر میری طرف دیکھا۔۔۔۔۔ آنسو اور بےبسی کے سوا کچھ نہیں تھا ان آنکھوں میں۔۔۔۔۔دل پہ چوٹ سی لگی۔۔۔۔۔۔۔پتہ ہے۔۔۔وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔۔۔شبو نے جب کہا تھا کہ اکبر تجھے مجھ پہ یقین ہے کہ نہیں؟؟؟ تو میں نے اسے جواب دیا تھا کہ۔۔۔۔شبو۔۔۔مجھے تیری پاکدامنی پہ اتنا یقین ہے کہ۔۔۔۔میرا ایمان ہے کہ تیرے دامن پہ فرشتے نماز پڑھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ اور وہ یہ بات سن کر بے حد روئی تھی۔۔۔اس نے کہا تھا۔۔۔اکبر ۔۔۔مجھے میری محبت کا صلہ مل گیا ہے۔۔۔میں سکون سے مرسکونگی اب۔۔۔۔۔۔مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔ پاگل تھی وہ۔۔۔۔۔وہ دھیرے سے بولا تھا۔ محبت بھی کبھی بےیقین ہوتی ہے؟؟؟وہ مسکرایا اگر دل سے محبت ہو۔۔۔ محبت بھی کبھی داغدار ہوسکتی ہے بھلا۔۔؟؟؟ محبت تو ہوتی ہی پاکدامن ہے۔۔۔اور میں سوچ رہا تھا۔۔۔ہیر رانجھے جیسی محبت کرنے والے۔۔تجھے کیا پتہ، وہ پاکدامن محبتیں اب زمانے میں نایاب ہیں۔۔۔ ابن علیم

The post مجنونِ عشق appeared first on Anmol Stories.



Source link

Follow by Email
Facebook15k
Twitter11k
%d bloggers like this: